Written by 11:58 am Blog

Hunza /ہنزہ

Hunza Valley

گلگت بلتستان  میں واقع وادی ہنزہ ایسا مقام ہے جو سیاحوں کی جنت ہے۔ اس کو دیکھتے ہی انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ یہ گلگت سے شمال میں نگر کے ساتھ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے وادی ہنزہ 2،438 میٹر (7،999 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ وادی ہنزہ گلگت شہر سے صرف 100 کلومیٹر اور 2 گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ ہنزہ کا سب سے اہم شہر علی آباد ہے جبکہ سیاحت کیلئے اور اردگرد کے نظاروں کیلئے کریم آباد مشہور ہے۔

Islambad to Hunza/اسلام آباد سے ہنزہ پہنچنے کا راستہ

اسلام آباد سے ہنزہ پہنچنے کا سب سے تیز ترین ذریعہ ہوائی جہاز ہے۔ اسلام آباد سے روزانہ گلگت فلائیٹ جاتی ہے اسلام آباد سے ہنزہ تک کا فاصلہ تقریبا 700 کلومیٹر ہے۔ بصورت یہ کہ موسم خراب نہ ہو۔ اور اسلام آباد سے 45 منٹ کے سفر کے بعد آپ گلگت پہنچ سکتے ہیں۔  گلگت سے  ہنزہ کا فاصلہ 100 کلو میٹر کا ہے اور تقریبا دو گھنٹے میں آپ ہنزہ پہنچ سکتے ہیں۔

دوسرا ذریعہ سڑک کے ذریعہ سفر ہے۔  بذریعہ روڈ آسان تو یہ ہے کہ مانسہرہ، ناران، بابوسر ٹاپ  اور چلاس، جگلوٹ، گلگت سے ہوتے ہوئے ہنزہ  پہنچا جا سکتا ہے۔   لیکن یہ روٹ صرف جون کے آخر سے ستمبر سے شروع تک ہی کھلا ہوتا ہے۔ اسلام آباد سے یہ راستہ تقریبا 14 سے 16 گھنٹے کا ہے۔

بذیعہ روڈ ایک راستہ یہ ہے کہ مانسہرہ سے شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے حسن ابدال۔ ایبٹ آباد۔ مانسہرہ۔ تھا کوٹ۔ بشام۔ داسو۔ چلاس۔ گلگت سے ہوتے ہوئے ہنزہ پہنچا جا سکتا ہے۔  اور یہ راستہ تقریبا 20 سے 22 گھنٹے کا ہے۔  یہ تھکا دینے والا سفر ہے تو خوبصورت لیکن اس پر ہمیشہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے اور بعض دفعہ چند گھنٹوں سے چند دنوں تک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے یہ راستہ بند رہتا ہے۔

Hunza Princely State/وادی ہنزہ کا صدر مقام

وادی ہنزہ کا سب سے اہم شہر علی آباد ہے جبکہ سیاحت کے لئے  اور اردگرد کے نظاروں کے لئے  کریم آباد مشہور ہے۔ وادی ہنزہ اگر آپ سیر کی غرض سے جائیں تو  اس کے لئے 1 یا دو دن کافی نہیں۔ اگر آپ وادی ہنزہ کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لئے کم سے کم چار یا پانچ دن درکار ہیں۔ وادی ہنزہ ایک طویل وادی ہے ۔ جہاں جھیلوں، بلند و بالا چوٹیوں، سر سبز میدانوں اور صدیوں پرانے گلیشئر اور صدیوں پر مشتمل تاریخی مقامات سمیت ہر طرح کے قدرتی مناظر سے آپ لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

Hunza Weather/ہنزہ کا موسم

ہنزہ چونکہ بلند و بالا چوٹیوں میں گھرا ہوا مقام ہے اس لئے یہاں گرمیوں میں بھی آب و ہوا ٹھنڈی رہتی ہے۔ گرمیوں میں رات کو ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے ۔ گرمیوں میں یہاں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری ہوتا ہے اور رات کو یہ درجہ حرارت 10 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

سردیاں یہاں نہایت سخت ہوتی ہیں۔ بالائی ہنزہ میں تو درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تک چلا جاتا ہے۔ لیکن کریم آباد اور علی آباد میں بھی درجہ حرارت منفی 25 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

سیاحت کے لئے بہترین موسم تو مئی تا ستمبر ہے البتہ یہاں پر خزاں اور بہار کا موسم بھی پاکستان کے باقی شمالی علاقہ جات کی نسبت مختلف ہوتا ہے۔ بہت سے سیاح یہاں پر خاص طور پر خزاں اور بہار کے موسم سے بھی لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔

Hunza Tourist Spot/ہنزہ کے سیاحتی مقامات

ہنزہ میں مختلف طرح کے سیاحتی مقامات ہیں اور سب مقامات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اگر آپ ہنزہ کا سفر کریں تو یہ مقامات دیکھنا ہر گز نہ بھولیں۔

karimabad /کریم آباد

کریم آباد ہنزہ کا مرکزی سیاحتی مقام ہے۔ یہاں پر رہائش کے لئے ہر طرح کے ہوٹل دستیاب ہیں۔ کریم آباد میں رہائش باقی تمام ہنزہ کے مقامات سے قدرے مہنگی ہے۔ لیکن اس مقام کی خوبصورتی کی وجہ سے سیاح یہاں قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کریم آباد کا رخ کرتی ہے۔ کریم آباد کے چاروں طرف اونچی چوٹیاں ہیں جن کے نظارے دنیا میں مشہور ہیں۔  ہنزہ کے اردگرد موجود چوٹیوں میں راکا پوشی، دیران پیک، گولڈن پیک، التر پیک، لیڈی فنگر پیک مشہور ہیں۔

کریم آباد کا بازار ہنزہ کی ثقافتی اشیاء سے بھرا پڑا ہوتا ہےسیاحوں اور خاص کر غیر ملکی سیاحوں کی وجہ سے یہ بازار نسبتا مہنگا ہے۔ لیکن یہاں کی ثقافتی اشیاء اعلیٰ کوالٹی میں یہاں دستیاب ہیں۔ کریم آباد میں موجود بلتت فورٹ  کریم آباد کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے کریم آباد کی بلندی سے راکا پوشی، لیڈی فنگر کا نظارہ اور ان کے دامن میں بہتا دریائے ہنزہ ایک انمول نظارہ پیش کرتا ہے۔

Baltit fort/بلتت فورٹ یا قلعہ

بلتت قلعہ 700 سال پہلے تمعیر کیا گیا تھا۔یہ قلعہ کریم آباد شہر میں واقع ہے اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس قلعے کے باسٹھ دروازے ہیں۔1965 تک یہ قلعہ ہنزہ کے حکمرانوں کے زیر استعمال رہا تھا۔ قلعہ چونکہ بلندی پر واقع ہے اس لئے یہاں سے وادی ہنزہ کا نظارہ قابل دید ہے۔اس  قلعے کے ایک کمرے سے وادی ہنزہ کا دلکش منظر جہاں سے پوری وادی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے اور سامنے ہی دنیا کی بلند ترین چوٹیوں سے ایک راکا پوشی نظر آتی ہے۔  یہاں پر ایک تاریخی میوزیم بھی ہے۔ اس قلعہ کے اندر کے مختلف حصوں  میں ، جو دراصل شاہی خاندان کے گھر تھے ، میں اب مختلف ریسٹورانٹ اور دکانیں قائم ہیں اور بازار کی سی شکل اختیار کر چکا ہے۔

Altit Fort/التت  فورٹ

قلعہ التت 900 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ لکڑی سے تعمیر کیا گیا یہ قلعہ بھی سیاحوں اور تاریخ سے دلچسپی لینے والوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ التت کا قلعہ جس علاقے میں واقعے ہے وہاں سے قدیم شاہراہ ریشم گزرتی ہے جہاں سے کبھی تاجروں اور قافلوں کا گزر ہوا کرتا تھا۔

Eagle Nest/ایگل نیسٹ

ڈوئیکر یا ایگل نیسٹ  کریم آباد سے اوپر چوٹی کی طرف واقع ہے۔ یہاں پیدل اور جیپ کے ذریعہ جایا جا سکتا ہے۔ یہ جگہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت برف پوش چوٹیوں پر پڑنے والی سورج کی کرنوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں بھی ہوٹل ہیں وادی ہنزہ کا بلند ترین مقام ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ وہاں عقاب کی شکل میں بنی ہوئی قبریں ہیں۔

Attabad Lake /عطاء آباد جھیل

پاکستان کی سب سے طویل ترین جھیل وادی ہنزہ میں ہے۔ علی آباد اور کریم آباد شہر سے صرف 20 سے 30 منٹ کی مسافت پر واقع یہ جھیل پاکستان کی دوسری تمام جھیلوں سے مختلف ہے۔  2010 میں قدرتی آفت یعنی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجہ میں یہ جھیل وجود میں آئی۔ گہرے نیلے رنگ کی یہ جھیل ، بلند و بالا چٹیل پہاڑوں کے بیچ نہایت دلکش نظارہ پیش کرتی ہے۔  اس جھیل پر ایک فائیو سٹار ہوٹل بھی موجود ہے۔ اس جھیل میں کشتی رانی اور جیٹ سکینگ سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ یہ جھیل اور اس کا نیلگوں پانی وادی ہنزہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

Borit Lake/بورت یا بورتھ جھیل

وادی ہنزہ میں ایک جہاں برف جیسے ٹھنڈے پانی کی جھیلیں ہیں وہاں ایک گرم اور نمکین پانی کی جھیل بھی ہے۔ کریم آباد سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلہ پر اور شاہراہ قراقرم سے 2 کلو میٹر دور بورتھ جھیل واقعہ ہے۔ اس جھیل میں آپ تیراکی بھی کر سکتے ہیں اور رات گزارنے کا بھی انتظام موجود ہے۔ بورتھ جھیل کے مغرب میں گلمت ٹاور دکھائی دیتا ہے جبکہ مشرقی سمت مشہورومعروف اور قدرت کا شاہکار پاسو کونز  بہترین دعوت نظارہ دیتی نظر آتی ہیں۔شمال میں پہاڑوں کی بلندیوں پر ایک بڑاگلیشیر موجود ہے جس سے خارج ہونے والا پانی پائپوں کے ذریعے بورتھ گاؤں تک پہنچایا گیا ہے۔

Pak China Border/پاک چائینہ بارڈر

اگر آپ ہنزہ جائیں اور پاکستان اور چائینہ کا بارڈر خنجراب پاس نہ دیکھیں تو سمجھیں آپ نے کچھ نہیں دیکھا۔ ہنزہ سے تقریبا 100 کلومیٹر کے فاصلہ پر  4693 میٹر یا 15397 فٹ کی بلندی پر درہ خنجراب واقع ہے۔ہنزہ سے یہاں پر تقریبا 3 سے 4 گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔   یہ پاس دنیا کی سب سے زیادہ پختہ بارڈر کراسنگ ہے۔ برف سے ڈھکی قراقرم کی چوٹیوں کے درمیان بنی سڑک خنجراب نیشنل پارک سے گزرتی ہے اس سڑک پر سفر کے دوران آپ پاکستان کے قومی جانور مارخور، یاک اور برفانی چیتوں کو بھی بلند برف پوش پہاڑوں پر دیکھ سکتے ہیں۔ خنجراب پاس انتہائئی بلندی پر واقع ہے اور یہاں پر صرف جون یا اگست تک ہی جانا ممکن ہے۔ ۔

کریم آباد ہنزہ سے جب آپ خنجراب پاس کی طرف سفر کریں تو راستے میں دریا، جھیل، پہاڑ، گلیشیر خنجراب نیشنل پارک اور یہاں موجود پہاڑی جانور یہ سب آ پ کو استقبال کرتے ہیں اور آپ کو اپنے حسن سے مسحور کر دیتے ہیں۔

Minapin/مناپن

وادی ہنزہ میں داخل ہونے سے قبل برف کا تاج محل کہلاتی راکاپوشی آپ کا استقبال کرتی ہے۔  گلگت سے خنجراب جاتے ہوئے مناپن نالے کے قریب دائیں جانب ایک چھوٹی سڑک قراقرم سے جدا ہوتی ہے ۔ یہی راکا پوشی بیس کیمپ کی طرف آپ کو لے جاتی ہے۔ سارا سال برف میں گھری رہنے والی راکا پوشی 25550 فٹ یعنی 7788 میٹر بلند چوٹی ہے۔ یہ  دنیا میں 27ویں نمبر پر بلند چوٹی ہے۔ سیاحت کا موسم یہاں بھی مئی سے شروع ہو کر ستمبر کے آخر میں ختم ہوتا ہے۔ اسی راستے پر دو نہایت دلفریب آبشاریں آپ کو اپنے پاس بہت دیر تک رکنے پر مجبور کرتی ہیں ۔

Passo Cones/پسو  کونز

یہ ایک  دلفریب کوہستانی سلسلہ ہیں جو دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔  پاسو کونز کی شاندار پیرامیڈ نما شکلیں، کراکورم رینج کی پسینوں میں بڑھتی ہیں۔ پاسو کونز کچھ کراکورم رینج کی اہم شاخوں میں واقع ہیں جو پرجوش دھوپ میں چمکتے برفوں سے ملتے ہیں۔ یہ رقبہ نقیبی گلیشیئرز سے گھیرا ہوتا ہے، جن میں سے پاسو گلیشیئر بہت مشہور ہے۔ ہنزہ دریا سے اوپر پھیلے ہوئے پسو کونز کے حسین مناظر سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔  باقی سب پہاڑوں سے منفرد دکھتی ہیں۔

Foods Of Hunza  ہنزہ کے کھانے

ہنزہ کی ایک خصوصیت وہاں کے روایتی کھانے ہیں۔ پاکستان کے کسی اور علاقہ میں رہتے ہوئے آپ نے یاک کبھی نہیں کھایا ہوگا۔ لیکن اگر آپ ہنزہ جائیں تو آپ کو یہ موقع مل سکتا ہے۔  ہنزہ کے روایتی کھانے دیگر پاکستانی کھانوں سے بہت مختلف ہیں خاص طور.  یہاں مختف قسم کی چائے اور قہوہ بھی ہیں۔ ہنزہ کے روایتی کھانوں میں  گولی، ہریسا، چیپ شورو، شوپان ، گیٹی، ہوئی لو گرما، ڈیرم فٹی، مکھن داؤڈومشہور ہیں۔

مزید پڑھیں

Close Search Window
Close