Written by 11:57 am Blog

Gilgit Baltistan /گلگت بلتستان

Gilgit Baltistan

گلگت بلتستان دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی سر زمین ہے۔ اس خطہ زمین میں کئی ایسے  پہاڑ ہیں جہاں سارا سال برف باری ہوتی رہتی ہے۔ گلگت بلتستان میں ہی دنیا کی دوسری بلند ترین اور پاکستان کی سب سے بلند چوٹی K-2 گلگت بلتستان بلتستان کا مرکزی شہر گلگت شہر ہے۔

Gilgit City/گلگت شہر

دنیا کے تین سب سے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے سنگم قریب واقع پاکستان  کا ایک شہر گلگت اپنی طرز کا واحد شہر ہے۔ دریائے گلگت کے کنارے آباد یہ شہر ہزاروں سال کی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ گلگت شہر بلند و بالا برف پوش پہاڑوں سے گھرا ہوا شہر ہے۔ اور پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا مرکز بھی ہے۔

Islamabad to Gilgit/اسلام آباد سے گلگت پہنچنے کا راستہ

سب سے سہل اور آساز ذریعہ جس سے وقت کی بہت بچت ہوتی ہے وہ بذریعہ جہاز ہے۔ اسلام آباد سے روزانہ گلگت

فلائیٹ جاتی ہے بصورت یہ کہ موسم خراب نہ ہو۔ اور اسلام آباد سے 45 منٹ کے سفر کے بعد آپ گلگت پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ہوائی سفر برف پوش بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں کے بیچ سے ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران آپ دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت کا بھی فضائی منظر دیکھ سکتے ہیں۔  لیکن یہ قدرے مہنگا ذریعہ ہے۔

دوسرا ذریعہ سڑک کے ذریعہ سفر ہے۔  بذریعہ روڈ آسان تو یہ ہے کہ مانسہرہ، ناران، بابوسر ٹاپ  اور چلاس، جگلوٹ سے ہوتے ہوئے گلت پہنچا جا سکتا ہے۔   لیکن یہ روٹ صرف جون کے آخر سے ستمبر سے شروع تک ہی کھلا ہوتا ہے۔ اسلام آباد سے یہ راستہ تقریبا 12 سے 14 گھنٹے کا ہے۔ لیکن یہ سفر بھی خوبصورت ہے۔

بذیعہ روڈ ایک راستہ یہ ہے کہ مانسہرہ سے شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے، بشام، کوہستان، چلاس، جگلوٹ سے  ہوتے ہوئے گلگت پہنچا جائے۔ اور یہ راستہ تقریبا 18 سے 20 گھنٹے کا ہے۔  یہ تھکا دینے والا سفر ہے تو خوبصورت لیکن اس پر ہمیشہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے اور بعض دفعہ چند گھنٹوں سے چند دنوں تک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے یہ راستہ بند رہتا ہے۔

گلگت شہر میں ہوٹل اور سہولیات

گلگت شہر، گلگت بلتستان کا مرکز ہونے کی وجہ سے بڑا شہر ہے۔ اور یہاں پر ہر قسم کی رہائش اور ہر قسم کی ضروری اشیاء دستیاب ہیں۔ درجنوں کی تعداد میں یہاں پر ہوٹل واقع ہیں۔ عام ہوٹل سے لے کر فائیو سٹار ہوٹل تک کی یہاں پر سہولت موجود ہے۔ یہاں پر ہوٹل کا کرایہ 3000 سے لر کر 40000 کے درمیان ہے۔  گلگت بلتسان میں پیدا ہونے والے ڈرائے فروٹ اور یہاں کی لوکل اشیاء گلگت کے بازاروں میں باآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔ نیز چین کا بارڈر قریب ہونے کی وجہ سے چینی مصنوعات بھی یہاں پر دستیاب ہوتی ہیں۔

Gilgit Weather/گلگت کا موسم

گلگت کا موسم سردیوں میں انتہائی ٹھنڈا تو ہوتا ہے مگر گرمیوں میں بھی یہاں موسم پاکستان کے باقی شمالی علاقہ جات کی نسبت گرم ہوتا ہے۔ سردیوں میں گلگت کا موسم منفی 20 ڈگری تک گر جاتا ہے اور گرمیوں میں 35 ڈگری تک بھی چلا جاتا ہے۔ گرمیوں میں پتھریلے پہاڑ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات گلگت میں گرمی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اگر لیکی سی بھی ہوا چلے تو موسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔

Gilgit Baltistan Tourist Spot/گلگت  بلتستان کے سیاحتی مقامات

تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں کا سنگم

گلگت بلتسان سے محض 45 کلومیٹر کے فاصلہ پر دنیا کے سب سے بڑے تین پہاڑی سلسلوں کا سنگم ہے۔ کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم اور کوہ ہندوکش اس جگہ پر ملتےہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے واقع یہ سنگم دنیا میں اپنی طرز کا واحد مقام ہے۔ اسلام آباد سے اگر گلگت بذریعہ روڈ آئیں یا واپس جائیں تو سڑک کنارے ہی ی خوبصورت جگہ واقع ہے۔

گلگت بلتستان میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں۔  لیکن گلگت شہر میں بھی شاپنگ کے علاوہ کئی مقامات کی سیر کی جا سکتی ہے۔ گلگت کے ارد گرد مقامات کی تفصیل درج ذیل ہے

Hunza/ہنزہ

گلگت سے ہنزہ کا فاصلہ صرف 100 کلو میٹر ہے اور تقریبا دو گھنٹے میں یہاں باآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ گلگت بلتستان کے مشہور سیاحتی اور روایتی مقام ہے۔

Attabad Lake/عطاءآباد جھیل

گلگت سے ہنزہ کا فاصلہ صرف 120 کلو میٹر ہے اور ڈھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ پاکستان کی طویل ترین جھیل ہے۔

Khunjrab Pass/خنجراب پاس

پاکستان اور چائینہ کا بارڈر جو 16 ہزاور فٹ سے زائد بلندی پر واقع ہے گلگت سے محض 260 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور یہاں پر 6 سے 7 گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ پہاڑی راستہ نہایت خوبصورت ہے۔

Fairy Meadows/فیری میڈوز

گلگت سے رائے کوٹ کا فاصلہ محض 70 کلو میٹر ہے اور یہاں سے بذریعہ جیپ فیری میڈوز جایا جا سکتا ہے۔ یہ پاکستان کا خوبصورت ترین اور مشہور ترین سیاحتی مقام شمار ہوتا ہے۔

Nalter/نلتر

گلگت سے تقریبا 45 کلو میٹر کے فاصلہ پر نلتر ویلی ہے اور یہاں پر خوبصورت جنگل کے ساتھ ساتھ چند نہایت خوبصورت جھیلیں بھی واقع ہیں۔ یہاں تک گلگت سے محض ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

Skardu/سکردو

گلگت سے سکردو تقریبا 200 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ سکردو کوہ ہمالیہ اور قراقرم سر کرنے والے کوہ پیماوں کا مرکز ہے۔ اور سارا سال یہ شہر ملکی و غیر ملکی کوہ پیماوں کی میزبانی کرتا ہے۔ گلگت سے بذریعہ روڈ تقریبا 4 سے 5 گھنٹے میں سکردو پہنچا جا سکتا ہے۔

سکردو میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں کن میں

شنگریلا

اپر کچورا جھیل

ست پارہ جھیل

کولڈ ڈیسرٹ

شگر

دیو سائی

خاص طور پر مشہور ہیں۔

Yaseen Vally/وادی یاسین

وادی یاسین گلگت سے 130 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ پھلوں اور خشک میوہ جات کے لئے مشہور یہ وادی گلگت بلستان کا تاج سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تقریبا 4 گھنٹے کی مسافت کے بعد پہنچا جا سکتا ہے

Phander Lake/پھنڈر جھیل

پھنڈر ویلی گلگت شہر سے تقریبا 150 کلو میڑ کے فاصلہ پر ہے۔ یہ بھی نہایت خوبصورت وادی ہے اور یہاں ایک قدرتی جھیل بھی واقع ہے۔ گلگت سے پھنڈر جھیل تک کا سفر تقریبا 5 سے 6 گھنٹے کا ہے۔

Astore valley/وادی استور

گلگت سے 120 کلو میٹر کے فاصلہ پر وادی استور ہے۔ یہ بھی پاکستان کی خوبصورت وادیوں میں سے ہے اس وادی میں پھلوں کے باغات کے علاوہ، جھیلیں آبشاریں، ندی نالے اور بہت سی چراگاہیں واقع ہیں۔ گلگت سے  اس کا سفر 3 سے 4 گھنٹے کا ہے۔

مزید پڑھیں

Close Search Window
Close