Written by 11:52 am Blog

وادی کاغان(Kaghan Valley)

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع بہت سی حسین وادیوں میں سے ایک وادی کاغان ہے۔ یہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع مانسہرہ  کی تحصیل بالاکوٹ میں واقع ہے۔  اس وادی کا نام اس وادی میں موجود ایک چھوٹے سے قصبے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ وادی بے انتہاء خوبصورت ہے اور یہاں آنے والے سیاحوں کے لئے فرحت افزاء ہے۔ وادی کاغان  کے بالکل وسط میں دریائے کنہار بہتا  ہے۔بل کھاتا ہوا یہ دریا وادی کاغان کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتا ہے۔ اس وادی میں بہت سی چراگاہیں ، ندی نالے اور جھیلں ہیں۔ وادی کاغان کی سرحد ایک طرف گلگت بلتستان اور دوسری جانب  وادی کشمیر سے بھی ملتی ہے۔ یہ وادی 650 میٹر ( 2134  فٹ ) سے درۂ بابوسر تک سطح سمندر سے 4173 میٹر (13,690 فٹ )تک بلند ہے اور 155 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔

وادی کاغان تک پہنچنے کا راستہ (Islamabad to kaghan valley)

پاکسان کے دار الحکومت اسلام آباد سے وادی کاغان کا فاصلہ 237 کلو میٹر ہے۔ اسلام آباد سے کاغان ویلی تک پہنچنے کے لئے تین  راستے استعمال ہو سکتے ہیں۔

پہلا راستہ پرانا راستہ ہے جو اسلام آباد سے حس ابدال، ہر پور ہزارہ، ایبٹ آباد  اور مانسہرہ سے ہوتے ہوئے بالاکوٹ پہنچتا ہے اور وادی کاغان میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگر اس راستے سے اسلام آباد کی طرف سفر کریں تو آپ تقریبا پانچ گھنٹے میں بالاکوٹ پہچ جاتے ہیں۔ اس راستے میں کئی چھوٹے بڑے شہر اور گاوں آتے ہیں۔ یہ راستہ بھی خوبصورت ہے۔ لیکن اس راستے سے سفر کے دوران آپ کو ٹریفک کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسرا راستہ بذریعہ موٹروے ہے جو چند سال قبل ہی شروع ہوئی ہے۔ اس راستے سے سفر بہت تیزی سے سمیٹا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد سے ہری پور موٹروے سے ہوتے ہوئے آپ تقریبا دو گھنٹے میں بالا کوٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اس راستے سے سفر کے دوران ٹریفک سے بچا جا سکتا ہے اور ہر طرح کی سہولت بھی موجود ہے

تیسرا راستہ اسلام آباد سے مری، نتھیا گلی، گلیات سے ہوتا ہوا ایبٹ آباد  پہنچتا ہے اور پھر مانسہرا  سے گزرتے ہوئے آپ بالاکوٹ پہچ جاتے ہیں۔ یہ راستہ کیونکہ پہاڑی راستہ ہے اس لئے یہاں سے بالاکوٹ پہنچنے میں آپ کو تقریبا سات گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہ راستہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے تفریحی مقامات سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر آپ راستے میں گلیا ت کا مزہ اٹھا نا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس وقت بھی ہے۔ اور ایک رات راستے میں قیام کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس راستے کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد سے کاغان جاتے ہوئے جو مشہور شہر آتے ہیں ان میں سب سے پہلے ٹیکسلا ہے۔ یہ ہزاروں سال پرانا قدیم شہر ہے ۔ اگر آپ تاریخ اور آرکیالوجی سے لگاو رکھتے ہیں تو یہاں پر دیکھنے کے لئے بہت سے مقامات ہیں۔ جن میں سب سے مشہور یہاں کا میوزیم اور گندھارا آرٹ ہے۔ بدھ مت کے قدیم مذہبی اور ثقافتی مقامات یہاں پر موجود ہیں۔ ہر سال سینکڑوں غیر ملکی سیاح خاص کر بدھ مت سے تعلق رکھنے والے سیاح یہاں آتے ہیں۔ اسلام آباد سے ٹیکسلا کا فاصلہ صرف 35 کلومیٹر ہے۔ اور آپ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں یہاں پہنچ سکتے ہیں

اسلام آباد سے وادی کاغان کے درمیان واقع مشہور Famous places Located Between Islamabad And kaghan Vally /مقامات

ٹیکسلا کے بعد اگلا شہر حسن ابدال ہے۔ یہ شہر بھی کافی قدیم ہے۔ اور یہاں پر سکھ مت کا مشہور گوردوارہ ’’پنجا  صاحب‘‘ بھی واقع ہے۔ ٹیکسلا سے ھسن ابدال کا فاصلہ صرف 25 کلومیٹر ہے۔

حسن ابدال سے کچھ فاصلے پر ہی خانپور ڈیم واقعہ ہے۔ تین طرف پہاڑوں سے گھیرے اس ڈیم کا منظر بھی بہت خوبصورت ہے۔

اس کے بعد اگلا بڑا شہر ایبٹ آباد واقع ہے۔ ایبٹ آباد شہر نسبتا بڑا اور ترقی یافتہ شہر ہے۔ اس شہر میں آپ کو ہر طرح کی سہولت میسر ہے۔ اسلام آباد سے ایبٹ آباد کا فاصلہ 135 کلو میٹر ہے ۔ بذیعہ موٹروے یہ فاصلہ دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں تہہ کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر جی ٹی روڈ سے جائیں تو یہ فاصلہ تین گھنٹے میں تہہ ہوتا ہے۔

ابیٹ آباد کے بعد اگلا شہر مانسہرہ آتا ہے۔ مانسہرہ سے ہی مشہور شاہراہ قراقرم کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ ایبٹ آباد سے مانسہرہ کا فاصلہ 25 کلو میٹر ہے۔

مانسہرہ کے بعد اگلا بڑا شہر بالاکوٹ آتا ہے۔ یہ ضلع مانسہرہ کی سب سے بڑی تحصیل ہے اور اسی تحصیل میں وادی کاغان واقع ہے۔ بالاکوٹ کو اگر وادی کاغان کا دروازہ کہا جائے تو یہ ہر گز غلط نہ ہوگا۔ یہاں سے وادی کاغان کا آغاز ہو جاتا ہے۔ وادی کاغان میں ہر طرح کی سہوت سیاحوں کے لئے میسر ہے۔

وادی کاغان کا موسم(Kaghan weather)

جہاں تک وادی کاغان کے موسم کا تعلق ہے تو مئی میں یہاں کا زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 11 اور کم از کم 3 درجہ سینٹی گریڈ رہتا ہے۔وادی کاغان میں موسم سرما بہت شدید ہوتا ہے۔ نومبر سے مارچ تک کے موسم میں یہاں برف باری ہوتی ہے۔ موسم سرما میں کم سے کم درجہ حرارت بعض مقامات پر منفی 25 ڈگری تک بھی گر جاتا ہے۔وادی کاغان گرمیوں میں خاص طور پر ملکی اور غیر ملکی سیاحو ں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ لیکن موسم سرما میں بھی سیاحت کے شوقین لوگ یہاں پر آتےہیں۔ موسم سرما میں سردی اور برف باری کی وجہ سے کئی ددفعہ وادی کاغان کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ بالاکوٹ سے آگے اگر آپ کو وادی کاغان کے اندر داخل ہونا تو یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس ہر طرح کا سامان میسر ہو۔ گاڑی کا پٹرول وغیرہ بھرا ہوا ہو۔ اور آپ نے اگلے چند دنوں کے موسم کی پیشگوئی بھی دیکھ لی ہو۔

وادی کاغان کی جھیلیں اور خوبصورت جگہیں(Lakes in Kaghan)

وادی کاغان ساری کی ساری ہی بلند و بالا پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے اور ہر مقام دوسرے مقام سے زیادہ خوبصورت ہے۔ اس وادی میں بہت سے مشہور مقامات ہیں۔ ان میں جھیلیں، ندی نالے اور سیرگاہیں شامل ہیں۔ چند مشہور پہاڑی چوٹیوں میں ملکہ پربت اور مکڑی چوٹی خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہ پہاڑی چوٹیاں بلند ہونے کی وجہ سے سارا سال برف میں گھری رہتی ہیں۔

اگر وادی کاغان میں موجود جھیلوں کی بات کی جائے تو یہاں کئی چھوٹی بڑی جھیلیں واقع ہیں۔ سب سے مشہور جھیل تو جھیل سیف الملوک ہے۔ تاہم اس کے علاوہ لولو سر، آنسو جھیل، دودی پت سر زیادہ مشہور جھیلیں ہیں۔

وادی کاغان میں بہت سے مشہور تفریحی مقامات شامل ہیں۔ جن میں شڑاں فارسٹ، شوگراں، سری پائے، کیوائی، ناران، بابو سر، لالہ زار زیادہ مشہور ہیں۔

وادی کاغان میں ہوٹلز اور کھانے(naran kaghan hotels)

وادی کاغان میں آپ کو ہر جگہ رات رہے  اور ہوٹلز کی سہولت میسر ہے۔ بالاکوٹ سے لے کر بابو سر تک پھیلی ہوئی اس وادی میں سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل موجود ہیں۔ ان ہوٹلوں کا ایک رات کا کرایہ دو ہزار سے لے کر 20000 تک ہے۔ اس کا تعین وہاں موجود سہولیات ، سیاحوں کی تعداد اور آپ کی پسند پر میسر ہے۔ اسی طرح یہاں ہر طرح کا کھانا بھی میسر ہے۔ خیبر پختون خواہ کے روایتی کھانوں کے علاوہ پاکستان کے دیگر پنجابی اور روایتی کھانے بھی یہاں میسر ہیں۔ اسی طرح ناران اور دوسری مشہور جگہوں سے آپ فاسٹ فوڈ بھی کھا سکتے ہیں۔ اسی طرح وادی کاغان میں مشہور ٹراؤٹ مچھلی بھی کھائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

Close Search Window
Close