Written by 11:54 am Blog

Kaghan Vally Famous Places/وادی کاغان  کی مشہور جگہیں

وادی کاغان  کی تمام جگہیں ہی خوبصورتی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ اور ہر جگہ کی اپنی خوبصورتی ہے۔ سر سبز و شاداب وادی جھیلوں، ندی نالوں ، آبشاروں ، جھرنوں اور سر سبز چرا گاہوں کی وجہ سے مشہور ہے۔  وادی کاغان جائیں تو درج ذیل مشہور جگہیں دیکھنا نہ بھولیں۔

بالاکوٹ سے جب  وادی کاغان میں داخل ہوتے ہیں تو یہ وادی اپنے سحر میں جکڑنا شروع کر دیتی ہے۔ سب سے پہلا مقام جو آپ کو اپنے حسن سے موہ لیتا ہے وہ کیوئی ہے۔

Kewai Waterfall/کیوائی آبشار

بالاکوٹ سے 24 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع یہ آبشار سڑک کنارے واقع ہے۔ اور وادی کاغان میں داخل ہونے والے ہر فرد کا استقبال کرتی ہے۔ کیوائی آبشار در اصل مکڑا چوٹی سے پگھل کر آنے والی برف ہے۔ یہ نہایت دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ اس کا پانی بہت ٹھنڈا ہے۔ یہاں پر بیٹھ کر آپ اپنی سفر کی تھکان کو دور کر سکتے ہیں۔ چائے پکوڑے سموسے سے لللے کر ہر طرح کے کھانے کی سہولت اس جگہ کے ارد گرد موجود ہے۔

Shogran/شوگراں

کیوائی سے صرف 8 کلومیٹر کے اگر دائیں جانب اوپر کی طرف سفر کیا جائے تو آپ شوگراں پہنچ سکتے ہیں۔ شوگراں  جانے کے لئے چڑھائی کافی زیادہ ہے۔ اس لئے زیادہ تر لوگ کار کی بجائے جیپ یا  ڈیزل گاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیوائی سے شوگران تک کا راستہ انتہائی حسین و دلفریب نظاروں کا حامل ہے۔

شوگراں سطح سمندر سے 2362 میٹر بلندی پر واقع ایک سطح مرتفع ہے۔ شوگران یا شوگراں کیوائی سے صرف 10 اور بالاکوٹ سے 34 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

“شو” مطلب ہندکو زبان میں “خوبصورت” اور “گراں” کے معنی “گاؤں” کے ہیں، اس کا مطلب “خوشنما اور دیدہ زیب گاؤں” ہے۔ “شو” مقامی زبان میں “تندوتیز ہوا” کو کہتے ہیں، یعنی ایسا مقام جہاں تیز ہواؤں کا راج ہو۔

شوگران میں کئی ہوٹل واقع ہیں جہاں مناسب قیمت پر رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔یہاں ہوٹل میں ایک رات قیام 3 ہزار سے 15 ہزار کے درمیا ن آپ کی جیب اور وہاں موجود سہولت کے حساب ہو ہوتاہے۔  یہاں گرمیوں میں بھی آب و ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے۔

شوگران کے مشرق میں سری، پائے اور مکڑا پہاڑ موجود ہے، مغرب میں موسی کا مصلی موجود ہے۔ شمال میں پیرنگ، مانا مینڈوس، شنکیاری کے مقامات ییں۔ جنوب میں گھنا جنگل ہے۔ شوگران کے قابل ذکر مقامات میں سری پائے، مانا منڈوس، مانشی، درشی، شاڑان، شنکیاری ہٹ زیادہ معروف ہیں۔ نواحی جنگلات میں مگری، مالکنڈی، جوانس، لولانی، بیرنگ اور کھیتر کافی گھنے ہیں، دن میں بھی ان تک سورج کی روشنی نہیں پہنچتی۔

شوگران سے جیپ کے ذریعہ آپ سری اور پائے خوبصورت مقامات پر بھی جا سکتےہیں۔ یہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر واقع نہایت دلربا چراگاہیں ہیں۔ یہاں روات رہنے کے لئے کیمپ جو موجود ہیں لیکن دیگر سہولیات نہیں ہیں۔ شوگران سے سری پائے تک کا راستہ بہت خوبصورت ہے اور گھنے جنگلوں میں سے گزرتا ہے۔ پائے تک کا جیپ کا سفر تقریبا دو گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔

Sharan/شڑاں

بالاکوٹ سے تقریباً 24کلو میڑ کے فاصلے پر کیوائی ہے کیوائی سے ناران کی طرف جاتے ہوئے 5کلو میٹر پارس ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں سے شاڑان جنگل کو راستہ جاتا ہے شاڑان جنگل پارس سے 16کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ ایک انتہائی دشوار گزار راستہ ہے ۔یہ راستہ دریائے کنہار کے کنارے سے پہاڑ پر چڑھنا شروع ہوتا ہے اورمختلف گاوں اور جنگلوں سے ہوتا ہوا شڑاں گاوں پہنچ جاتا ہے۔ اس راستے پر روڈ نہیں ہے صرف پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بنایا گیا ہے اور وہاں کے مقامی تجربہ کار ڈرائیور اور جیپ ہی اس سفر کے لئے موزوں ہیں۔ پارس سے شڑاں فارسٹ تک کا سفر جیپ میں تقریبا ڈیڑھ سے دو گھنٹے پر مشتمل ہے۔ پارس سے شاڑان جاتے ہوئے خوبصورت لینڈ سکیپ نظر آتے ہیں ۔ راستے میں ایک چھوٹا سا قصبہ آتا ہے جس کو بیلا کہتے ہیں ۔ بیلا سے گزرتے ہوئے جاپانی پھل کے درخت نظر آتے ہیں اور ان کے ساتھ لٹکتے جاپانی پھل ایک خوبصورت نظارا پیش کرتے ہیں

شڑاں جنگل میں رات گزارنے کے لئے کیمپنگ اور Huts کی سہولت موجود ہے۔ یہاں پر آپ کو مقامی ہٹ مالکان کی طرف سے B.B.Q کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ یہ نہایت پر سکون اور پر افزاں مقام ہے۔ شڑاں جنگل سے صرف 25 منٹ کی پیدل مسافت پر ایک آبشار بھی واقع ہے۔

شڑاں سے ہائیکنگ کے شوقین افراد کے لئے ایک ٹریک سیرن کی طرف ، ایک ٹریک جنگل میں مانشی کی طرف اور ایک طرف راستہ موسیٰ کے مصلے کو جاتا ہے

Naran/ناران

وادی کاغان کا  سب سے خوبصورت مقام ناران ہے۔ اور ناران کو کاغان ویلی کا قلب کہا جائے تو  یہ بھی غلط نہ ہوگا۔ ناران بالاکوٹ سے 75 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ ہر سال یہاں یہاں پر لاکھوں حضرات سیر کے لیے ملک کے کونے کونے سے آتے ہیں۔ ناران کے ساتھ ساتھ دریائے کنہار بہتا ہے اور ناران میں  نومبر سے لے کر مارچ تک برف باری کا موسم ہوتا ہے۔ ان موسموں میں یہاں تفریحی سرگرمیاں تقریبا ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن موسم گرما میں ناران کی رونق لوٹ آتی ہے۔

ناران میں سینکڑوں ہوٹل ہیں اور اب یہاں ہر طرح کی سہولت میسر ہے۔ سیاحوں کے رش ہونے کی وجہ سے موسم گرما میں یہاں موجود سینکڑوں ہوٹل بھی بعض اوقات کم پڑ جاتے ہیں۔ یہاں پر ایک رات کے لئے ہوٹل 3000 سے 25000 تک سہولیات، اور سیاحوں کے رش کے حساب سے دستیاب ہیں۔

ناران میں باقی سہولیات کے ساتھ ساتھ آپ دریائے کنہار میں رافٹنگ Rafting کا مزہ بھی اٹھا سکتےہیں۔

ناران کے پاس سب سے زیادہ مشہور جگہ جھیل سیف الملوک ہے جہاں صرف اور صرف 30 منٹ کے جیپ کے سفر سے پہنچا جا سکتا ہے۔جھیل سیف الملوک کے علاوہ لولو سر جھیل جانے کے لئے بھی ناران سے روڈ جاتی ہے۔ 50 کلومیٹر دور سڑک کے کنارے واقع اس جھیل تک ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔   اس کے علاوہ ناران سے ایک راستہ لالہ زار کی سرسبز وادی کی طرف بھی جاتا ہے۔

Lalazar/لالہ زار

لالہ زار وادی کاغان کا انتہائی سر سبز میدان ہے۔ یہ ناران سے صرف 18 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ لالہ زار جانے کے لئے بٹہ کنڈی سے بذریعہ جیپ جایا جاتا ہے لیکن کچھ لوگ ہائیکنگ کے ذریعہ بھی جاتے ہیں۔ یہاں سے ملکہ پربت عقبی جانب سے دکھائی دیتی ہے۔ یہاں صرف ایک کینٹین واقع ہے اس کے علاوہ کوئی سہولت میسر نہیں۔ لیکن یہ پر افزاح مقام ہے اور خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ روڈ سے نسبتا دور ہونے کے وجہ سے سیاح اس طرف کم آتے ہیں۔

بابو سر ٹاپ

درہ بابو سر یا بابو سر ٹاپ وادی کاغان کے شمال میں 150 کلومیٹر (93 میل) طویل ایک پہاڑی درہ ہے جو چلاس کو شاہراہ قراقرم سے ملاتا ہے۔ یہ وادی کاغان کا بلند ترین نقطہ بھی ہے۔ دیامر کے سیاحتی مقام ”بابوسر ٹاپ“کو جہاں تاریخی اور سیاحتی اہمیت حاصل ہے وہیں پل پل بدلتے موسم کی ادائیں سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔بابو سر ٹاپ ناران سے 70 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 1370 فٹ ہے۔ ناران سے تقریبا 2 گھنٹے کے سفر کے بعد بابو سر پہنچا جا سکتا ہے۔ بابوسر تک روڈ بالکل صاف ہے۔ لولو سر جھیل کے بعد کچھ چڑھائی زیادہ ہے۔ ناران سے بابوسر کا راستہ خوبصورتی میں اپنی مثال رکھتا ہے۔

بابو سر سیاحوں کے لئے صرف جون سے ستمبر تک ہی کھلا ہوتا ہے باقی سارا سال یہاں برف رہتی ہے۔ گرمیوں میں بھی یہاں درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے۔ یہاں موسم اکثر ٹھنڈا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ موسم کا یہاں کوئی اعتبار نہیں۔ کسی وقت بھی دھوپ نکل سکتی اور کسی وقت بھی بارش اور برف باری شروع ہو سکتی۔

رات گزارنے کے لئے یہاں کوئی ہوٹل نہیں ہے ۔ لیکن کیمپ مل جاتے ہیں۔ لیکن اس قدر بلندی اور سردی میں رات گزرنا خطرے سے خالی نہیں۔ 

بابو سر پاس پر گرمیوں میں سیاحوں کا رش رہتا ہے اور بارش کے بعد کبھی اس روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو جاتی ہے اس لئے یہاں بعض اوقات ٹریفک جام بھی ہو جاتی ہے۔ اس لئے جب بھی یہاں جائیں تو سردی سے بچنے کا مکمل انتظام کر کے جائیں۔ 

مزید پڑھیں

Close Search Window
Close