Written by 5:02 pm Blog

وادی کاغان میں موجود جھیلیں

وادی کاغان کی سر سبز اور نہایت دلربہ وادی ہے۔ اس وادی کی خوبصورتی بل کھاتا اور تیزی سے بہتا دریائے کنہار بھی ہے۔ لیکن جو چیز اس وادی کو سب سے یادہ دلکش بناتی ہے وہ اس وادی میں موجود چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں۔ ذیل میں وادی کاغان میں موجود چند جھیلوں کا تعارف قارئین کی سہولت کے لئے پیش ہے

جھیل سیف الملوک

وادی کاغان کی سب سے مشہور جھیل جھیل سیف الملوک ہے۔ یہ جھیل پاکستانی خوبصورتی کے سر کو تاج کی طرح سجاتی ہے، یہ جھیل ناران شہر کے قریب اور وادی کاغان کے آخر میں واقع ہے۔ ناران سے بذریعہ جیپ یا پیدل اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ جھیل دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی کے لئے مشہور ہے۔ یہ چاروں طرف سے اونچے اونچے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ جھیل سیف الملوک کی خوبسورتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس جھیل کے بارے میں بے شمار کہانیاں مشہور ہیں اور مشہور ہے کہ  یہ اتنی خوبصورت ہے کہ یہاں چودویں رات کو پریاں اترتی ہیں۔

 گلیشیئر کے اونچے پہاڑوں اور سرسبز ڈھلوانوں کے دلفریب نظارے کے ساتھ یہ دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں سے ایک ہے جو سال بہ سال ناقابلِ فراموش دوروں کو دعوت دیتی ہے۔یہ جھیل سطح سمندر سے  3 3224 میٹر/10578 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جھیل سیف الملوک 2.7 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اس کے چاروں طرف پہاڑ ہیں۔ ملکہ پربت اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے

سیف الملوک جھیل کو دی گارڈین کی جانب سے پاکستان کا پانچواں خوبصورت تفریحی مقام قرار دیا ہے اور اسے زمین پر جنت کہا ہے۔ سردیوں میں برف باری کی وجہ سے جھیل  مکمل طور پر جم جاتی ہے۔ جون سے ستمبر تک سیاحوں کا جم غفیر اس مقام کا رخ کرتا ہے۔ اس خوبصورت جگہ کا موسم دن کے وقت انتہائی خوشگوار ہوتا ہے گرمیوں میں یہاں درجہ حرارت تقریباً 15 سے 20 سینٹی گریڈ تک  ہوتا ہے۔ جبکہ رات کو درجہ حرارت کم ہو کے 3 ڈگری ہوجاتا ہے ۔

ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے کشتی رانی کی سہولت بھی موجود ہے  ۔ یہاں رات گزارنے کی سہولت میسر نہیں لیکن اگر کوئی یہاں رات گزارنا چاہے تو کیمپنگ کی جا سکتی ہے لیکن اس کے لئے آپ کے پاس کیمپنگ اور سردی سے بچنے کا تمام سامان ہونا چاہئے۔

ہایکنگ کے شوقین افراد ناران سے تقریبا دیڑھ گھنٹے کی ہائیک کرکے بھی یہاں پہنچ سکتے ہیں۔

آنسو جھیل

جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے یہ جھیل آنکھ کے آنسو کی طرح دکھتی ہے۔ اس جھیل کو جب اوپر پہاڑ پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آنکھ نبی ہوئی ہے۔ اور اس جھیل سے بہتا پانی بالکل ایسا ہی منظر پیش کرتا ہے جیسے آنکھ سے پانی رواں ہو۔

وادی کاغان میں جھیل سیف الملوک کے قریب واقع جھیل ہے، یہ کوہ ہمالیہ میں ملکہ پربت کے پاس واقع ہے۔ یہ جھیل سطح سمندر سے 16492 فٹ یا 5027 میٹر کی  بلندی پر واقع  ہے۔  اس جھیل کو پانی کے قطرے جیسی شکل کی وجہ سے آنسو جھیل کا نام دیا گیا اور یہ دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔

یہ جھیل درمیان سے برف سے جمی رہتی ہے جس سے یہ کسی آنکھ کی پتلی سے نکلنے والے آنسو جیسی لگتی ہے تاہم یہاں جانے کے خواہش مند افراد کے لیے اس تک رسائی زیادہ آسان نہیں کیونکہ ایک تو یہاں آنے کے لئے کوئی چیپ ٹریک موجود نہیں۔ دوسرے یہ جھیل تقریبا سارا سال برف سے جمی رہتی ہے اور یہاں گرمیوں میں درجہ حرارت بھی منفی ڈگری میں جا سکتا ہے۔

آنسو جھیل تک پہنچنے کے لئے دو  راستے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن دونوں راستے ہی ہائیکنگ پر مشتمل ہیں۔

پہلا طریقہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ ناران سے جیپ پر جھیل سیف الملوک پہنچا جائے اور پھر وہاں سے تقریبا 7سے 10 گھنٹے کی ہائیک کرکے آنسو جھیل کے قریب پہنچا جائے۔ لیکن اس میں بھی راستے میں آپ کو گلیشئیر سے پگھلتے پانی کا دریا عبور کرنا ہوتا ہے۔ اور کافی دشوار ہائیکنگ ہی ہے۔ آنسو جھیل کے پاس کوئی سہولت میسر نہیں۔ وہاں رات کو کیمپنگ کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں اس کی ایک وجہ موسم اور دوسری وجہ جنگلی جانور ہیں۔

دوسرا طریق یہ ہے کہ  ناران روڈ پر مہانڈری بازار سے جیپ کے ذریعہ منور بنگلہ تک پہنچا جائے۔ یہ تقریبا دو گھنٹے کا جیپ ٹریک ہے۔ اس کے بعد تقریبا 12 گھنٹے کی ہائیکنگ کر کے آنسو جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ راستے میں کیمپنگ کر کے رات بھی گزاری جا سکتی ہے۔ اور اس کے بعد جھیل سیف الملوک کی طرف اترا جا سکتا ہے۔ اس سارے راستے میں آپ کو کوئی کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہوگی اور صرف ایڈونچر اور ہائینکنگ کے شوقین افراد ہی اس کا مزہ اٹھا سکتے ہیں۔

لولو سر جھیل

وادی کاغان کی سب سے بڑی جھیل لولوسر جھیل ہے ، لوٗلو سر شینا زبان کا لفظ ہے لوٗلو سے مراد سرخ اور سر سے مراد جھیل ہے۔ لولوسر جھیل مقامی اور بین اقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکزہے کیونکہ روس سے آنے والے پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔ اونچے، برفیلے پہاڑ اور شفاف پانی پر تیرتے سبز پتے ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو دیکھنے والے کو مسحور کر دے۔ یہ جھیل سطح سمندر سے 11،200 فٹ (3،410 میٹر) بلند ہے۔ اس جھیل سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس جھیل تک پہنچنا سب سے آسان ہے۔ آپ کار پر بھی اس جھیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ جھیل  ناران سے 50 کلو میٹر اور بیسل سے صرف دو کلو میٹر کے فاصلے پر بابوسر روڈ کے کنارے  واقع ہے۔ دریا ئے کنہار یہیں سے دریا کی شکل اختیار کرتا ہے اور دریا کا سب سے بڑا ماخذ بھی یہی جھیل ہے۔ یہ جھیل سڑک کنارے کوئی ڈھائی کلو میٹر لمبی ہے۔ اور کئی مقامات پر آپ سڑک سے کوئی سوفٹ نیچے ٹریک کرتے ہوئے جھیل کنارے تک جا سکتے ہیں۔ جھیل کا پانی ٹھنڈا اور زمرد رنگ کا ہے۔ اس جھیل کی دیومالائی کہانیاں بھی آپ کو پریوں کے دیس لے جاتی ہیں۔

اس جھیل کے ارد گرد کئی ہوٹل اور ریسٹورنٹ واقع ہیں۔ موسم گرما میں یہاں کا موسم نہایت دلکش ہوتا ہے۔ مئی سے ستمبر تک اس جھیل کی طرف سفر کیا جاسکتا ہے۔ سال کے باقی مہینوں میں اس جھیل تک پہنچنا ممکن نہیں کیونکہ اس جھیل کا راستہ برف باری سے بند ہو جاتا ہے۔

دودی پت سر جھیل

دودی پت سر  جھیل وادی کاغان کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے یہ جھیل  4175 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہ جھیل سفید برفیلے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ اسی لئے اس جھیل کا نام دودی پت سر پڑ گیا۔ دودھ کا مطلب سفید ہے،پت پہاڑ کو کہتے ہیں اور سر کا مطلب جھیل ہے۔ لیکن جھیل کا رنگ سفید نہیں نیلا ہے، درحقیقت اس سے ملحقہ برف پوش پہاڑوں کا پانی میں جھلکنے والا عکس اسے دور سے ایسا دکھاتا ہے جیسے دودھ کی نہر اور ممکنہ طور پر اسی وجہ سے اس کا نام بھی رکھا گیا۔ اس کی خوبصورتی دیکھ کر اس کا نام دودی پت سر پڑ گیا۔یہ پاکستان کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا بھر سے سیاح  اسے دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔

یہ علاقہ اپنے جادوئی منظر سیاحوں کو اپنے خیمے یہاں لگا کر قدرتی خوبصورتی اور تنہائی سے لطف اندوز ہونے پر مجبور کر دیتا ہے، دودی پت سر بند شکل میں خوبصورت برف پوش چوٹیوں میں گھری ہوئی جھیل ہے۔ یہاں تک رسائی انتہائی مشکل اور دشوارگذار کام ہے۔ یہاں ناران کے علاقے جل کھاڈ  سے چار گھنٹے کا سفر کر کے پہنچا جاسکتا ہے۔  اس جھیل تک  پہنچنے کے لئے 8 سے 12 گھنٹے درکار ہیں۔  جل کھڈ کے مقام سے دریائے کنہار کو پار کرنے کے بعد اس جھیل تک رسائی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اس جھیل تک پہنچنے کے لئے عموما دو دن درکار ہوتے ہیں۔ راستے میں ملا کی بستی نامی گاوں میں رات کو گزارا جا سکتا ہے۔

 اس بستی میں کیمپنگ اور رسٹورانٹ کی سہولت موجود ہے۔ اس جھیل کے ارد گرد موبائل وغیرہ کی سہولت میسر نہیں۔ اس لئے کیمپنگ اور ایڈونچر کے شوقین افراد ہی اس قدرتی حسن سے مالا مال جھیل سے لطف اٹھانے اس کا رخ کرتے ہیں۔

ان بڑی اور مشہور جھیلوں کے علاوہ چند چھوٹی جھیلیں بھی وادی کاغان میں واقع ہیں ۔

جن میں سری اور پائے کے علاقہ میں پائی جانے والی جھیل اور گٹی داس میں پائی جانے والی  پیالہ جھیل بھی شامل ہے۔ 

Close Search Window
Close