Written by 11:56 am Blog

Swat Valley/وادی سوات

وادی سوات کی خوبصورتی اور اس کے نظاروں کی وجہ سے اسے مشرق کا سوئیٹزرلینڈ کہا  جاتا ہے۔ مشرق کا سوٹزرلینڈ کہلاتی یہ وادی بلند و بالا پہاڑوں، قدرتی جھیلوں،صاف شفاف پانی کے چشموں، بل کھاتے اور شور مچاتے دریاوں،  میوہ جات اور پھلوں کی وجہ سے مالا مال ہے۔  ملاکنڈ ڈویژن میں واقعہ ضلع سوات دارالحکومت اسلام آباد سے تقریبا 250 کلو میٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔منگورہ شہر اس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ بدھ مت کے زمانہ میں  اس علاقہ کو ایک خاص حیثیت حاصل تھی۔ کیونکہ بدھ مت میں پہاڑوں پر چلہ کشی پر بھی زور دیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے اس علاقہ میں اب بھی بدھ مت کی کافی باقیات موجود ہیں۔ آثار قدیمہ والوں نے بہت سی پرانی جگہو ں کو دریافت کیا ہے۔ وادی سوات  میں کم از کم 100 سے زائد آثار قدیمہ کے مقامات ہیں۔  بدھ مت کے دور میں وادی سوات کو اودیانہ یعنی باغ کہا جاتا تھا۔ سوات کا دارالحکومت سیدو شریف ہے لیکن مرکزی شہر  مینگورہ ہے۔

سوات کی وادی ہندوکش پہاڑی سلسلے کے دامن کے وسط میں واقع ہے۔ مغرب میں اس کے گرد چترال ، اپر دیر اور لوئر دیر ، شمال میں گلگت بلتستان اور مشرق اور جنوب مشرق میں کوہستان ، بونیر اور شانگلہ کے ساتھ گھرا ہوا ہے۔

Islamabad To Swat/اسلام آباد سے سوات

اسلام آباد سے وادی سوات تک پہنچنا اب پہلے کی نسبت بہت آسان ہے۔ اسلام آباد سے آپ منگورا تک صرف  4 گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔ اسلام آباد سے پشاور موٹروے پر سفر کرتے ہوئے کیپٹن کرنل شیر خان انٹر چینج سے آپ سوات موٹروے پر سفر شروع کر دیتے ہیں۔ اس موٹروے کا سفر آرام دہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی ہے۔ اس موٹروے سے آپ پہاڑوں کے اندر  سے گزرتی ہوئی ٹنلز سےکے سفر سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ چکدرہ سے آپ منگورہ سوات روڈ پر سفر شروع کرتے ہیں۔  منگورہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے دریائے سوات کی دوسری جانب ایک نئی روڈ ہے جو دریائے سوات کے کنارے سے ہوتی ہوئی بحرین تک لے جاتی ہے۔

Places In Mangora/منگورہ میں دیکھنے والے مقامات

منگورہ اور سیدو شریف میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جن کو دیکھا جا سکتا ہے۔

White palace/سفید محل

مرغزار ، سوات کا ایک چھوٹا گاؤں ہے، سوات کے شاہی خاندان کی رہائش گاہ وائٹ ماربل پیلس کی وجہ سے مرغززار ایک مضبوط تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ 1931ء میں اس سفید محل کی تعمیر شروع ہو ئی تھی۔ جدید ریاست سوات کے بانی میاں گل عبدالودو (بادشاہ صاحب) نے سفید محل کی تعمیر 1941ء میں مکمل کروائی اور اس کے لیے سنگ مرمر راجستھان سے منگوایا گیا تھا۔ سفید محل کو پہلے موتی محل کہا جاتا تھا اور اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا ماربل وہی ہے، جو آگرہ کے مشہور زمانہ تاج محل میں استعمال ہوا تھا۔1972  میں سفید محل کو با قاعدہ طور پر ایک ہوٹل کا درجہ دے دیا گیاریاستی دور حکومت میں جو اعلٰی شخصیات یہاں قیام کر چکی ہیں، ان میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ، پاکستانی صدر ایوب خان اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔ اسی طرح کئی اعلٰی انگریز افسران بھی چھٹیاں منانے کے لیے سفید محل کا رخ کرتے تھے جبکہ غیر ملکی سیاح بھی خاص طور پر اس محل کو دیکھنے مرغزار آتے تھے۔

Saidu Sharif/سیدو شریف

سیدو شریف سوات کا جدید ترین شہر ہے جو منگورہ سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سیدو شریف منگورہ کے ساتھ کچھ اس طرح سے جڑا ہوا ہے کہ دونوں کا تعین کرنا بہت مشکل ہے بلکہ منگورہ اور سیدو شریف بالکل دو جڑواں شہر معلوم ہوتے ہیں۔  وادی سوات  میں اور اس شہر میں اونی کپڑا، کمبل اور شال بین الاقوامی معیار کےتیار ہوتے ہیں۔

Fiza Ghat/فضا گھٹ

فضا گھاٹ  پارک دریائے سوات کے کنارے  سیاحتی مقام ہے جہاں دریائے سوات سے نظارے سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں بہت سے ریسٹورانٹ دریا کے کنارے ہیں جن کا منظر بہت خوبصورت تہے۔  یہ مینگورہ سے تقریبا 3 کلومیٹر دور ہے۔یہ بالائی وادی سوات کا دروازہ سمجھنا چاہئے۔

Mangora Museum/منگورا میوزیم

مینگورہ اور سیدو شریف کے درمیان آدھے راستے پر سوات میوزیم مشرق کی طرف ہے۔ سوات میں گندھارا مجسموں کا ایک عمدہ ذخیرہ موجود ہے جسے بدھ کی زندگی کی کہانی کی مثال پیش کرنے کے لئے ان کی تنظیم نو اور لیبل لگا ہوا ہے۔ ٹیراکوٹا کے مجسمے اور برتن ، موتیوں کی مالا ، قیمتی پتھر ، سکے ، ہتھیار اور دھات کی مختلف اشیاء گندھارا میں روز مرہ کی زندگی کی مثال پیش کرتی ہیں۔

Bahrein/بحرین

بحرین دریائے سوات کے داہنی طرف مینگورہ سے 60 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔اس کا نام بحرین دو دریاؤں دریائے سوات اور دریائے دارال کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ نہایت خوبصورت مقام ہے اور یہاں پر بہت سے ہوٹل اور بازار واقع ہے۔ بحرین کے ارد گرد جنگل اور دیہات ہیں۔ یہاں گرمیوں میں آڑو کثرت سے ہوتے ہیں۔

Kalam/کلام

بحرین سے صرف 35 کلو میٹر کے فاصلے پر کلام شہر ہے۔ کلام کو اگر وادی سوات کا دل کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ بحرین سے تقریبا 2 گھنٹے میں یہاں آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ کلام میں کثرت سے ہوٹل ہیں۔ یہاں کا موسم گرمیوں میں بھی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں درجہ حرارت 10 ڈگری سے 25 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے۔ یہاں پر گرمیوں میں عموما سیاحوں کا رش رہتا ہے۔ یہاں ہوٹل کا کمرہ 3 ہزار سے 15 ہزار کے درمیان لیا جا سکتا ہے۔ دریائے سوات کے کنارے آباد یہ شہر نہایت خوبصورت ہے۔ اس کی خوبصورتی کی وجہ ایک طرف دریائے سوات تو دوسری طرف بلند و بالا پہاڑ اور ان میں گھنا جنگل۔

Mahodand Lake/مہوڈنڈ جھیل

کلام شہر سے مہوڈنڈ جھیل کا فاصلہ تو 30 کلومیٹر ہے لیکن جیپ کے ذریعہ تقریبا 3 سے 5 گھنٹے لگ جاتے ہیں کیونکہ کلام سے مہوڈنڈ کی طرف سفر کریں راستے میں کئی ایسی جگہیں آتی ہیں جہاں رکے بغیر گزارا نہیں۔

سب سے پہلے تو کلام سے نکلتے ہی گھنا جنگل آتا ہے۔ اس کے بعد اوشو کی خوبصورت وادی آتی ہے۔ اور اس سے آگے مٹلٹان میں بلند و بالا آبشار۔ ان سب مقامات پر سیاح عموما رکتے ہوئے اور لطف اندوز ہوتے ہوئے جاتے ہیں۔

مہوڈنڈ جھیل پہاڑوں میں گھری قدرتی نظاروں سے مالا مال مقام ہے۔ یہاں آبشار، برف پوش پہاڑ ، سر سبز میدان، گھنے جنگل اور جھیل کا نظارہ آپ بیک وقت کر سکتے ہیں۔ مہوڈنڈ جھیل پر کیمپنگ کی سہولت موجود ہے۔ لیکن گرمیوں میں بھی یہاں رات انتہائی ٹھنڈی ہوتی ہے اور درجہ حرارت منفی میں بھی چلا جاتا ہے۔ یہاں پر آپ جھیل میں کشتی رانی کی سیر بھی کر سکتے ہیں اور اس جھیل میں کثرت سے موجود ٹراؤٹ فش سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

Utror Valley/اتروڑ ویلی

کلام شہر سے ایک راستہ وادی اتروڑ کی جانب جاتا ہے۔ یہ نہایت خوبصورت وادی ہے۔ سر سبز اور آبشاروں اور ندی نالوں سے بھری ہوئی ہے۔ عموما اس وادی میں سیاح کم ہوتے ہیں اس لئے اس کی قدرتی خوبصورتی زیادہ ہے۔ یہاں شاہی باغ نامی ایک خوبصورت سبزہ زار ہے جو دریا کے کنارے بہت خوبصورت جگہ ہے۔

Kundol Lake/کنڈول جھیل

کلام شہر سے یہ جھیل 20 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ وادی اتروڑ میں واقع یہ نیلے صاف شفاف پانی کی جھیل سیاحوں اور ہائیکنگ کے شوقین افراد کے لئے بہت پر سکون مقام ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی تقریبا 9950 فٹ ہے۔ گرمیوں میں اس جھیل پر جایا جا سکتا ہے۔ جھیل پر جانے کے لئے کلام سے لڈو مقام تک جیپ پر جا یا جا سکتا ہے۔ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد تقریبا دیڑھ سے دو گھنٹے کی ٹریکنگ کے بعد اس جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس جھیل پر صرف قدرتی حسن ہے۔ اس کے علاوہ کوئی سہولت میسر نہیں۔

Malam Jaba/مالم جبہ

مالام جبہ وادی سوات میں سیدو شریف سے 40 کلومیٹر دور قراقرم پہاڑی سلسلے کا ایک ہل اسٹیشن ہے۔ مالم جبہ پاکستان کا سب سے بڑا سکی ریزورٹ ہے۔ مالم جبہ اسکی ریزورٹ کی سطح تقریباً 800 میٹر ہے جس کی بلندی 2804 میٹر (9200 فٹ) سطح سمندر سے بلندی پر واقع ہے۔ یہ ریزورٹ جدید سہولیات سے آراستہ تھا جس میں رولر / آئس سکیٹنگ رنکس ، جدید چیئرلفٹ ، اسکیئنگ پلیٹ فارم وغیرہ شامل ہیں۔

مالم جبہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ گرمیوں اور سردیوں دونوں موسم میں یہاں سیاحوں کا رش رہتا ہے۔ یہاں ایک فائیو سٹار ہوٹل بھی موجود ہے۔ سردیوں میں سیاح اسکینگ کرنے کی غرض سے بھی بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں۔ مالم جبہ کے پاس بھی بہت سے ہوٹل اور کیمپنگ سپاٹ موجود ہیں جہاں رات بھی گزاری جا سکتی ہے۔

Weather/درجۂ حرارت

زیریں سوات موسمِ گرما میں مئی سے ستمبر تک زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 37.77 اور اکتوبر سے مارچ تک 26.66 سنٹی گریڈ رہتا ہے۔ سردی کے موسم میں کم سے کم درجۂ حرارت صفر سے منفی 8سنٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ موسمِ بہار یعنی مارچ اور اپریل میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 24 اور کم سے کم 22 ڈگری سنٹی گریڈ تک رہتا ہے۔

بالائی سوات میں موسم گرما میں درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت25 ڈگری اور کم سے کم منفی 2 ڈگری تک چلا جاتا ہے۔  موسم سرما میں کم سے کم منفی 20 سے 10 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔

 یہاں سیدو شریف کے قریب اسلام پور نامی گاؤں میں اونی کپڑے کی سینکڑوں کھڈیاں ہیں جن کا تیار کیا ہوا حامل ہیں۔ دریائے سوات میں جو مچھلیاں پیدا کی ہیں ان میں ٹراؤٹ مچھلی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس کے علاوہ مہاشیر مچھلی اور سواتی مچھلی بھی پائی جاتی ہے

مزید پڑھیں

Close Search Window
Close