Written by 11:59 am Blog

Skardu /سکردو

skardu

گلگت بلتستان  میں غیر ملکی سیاحوں کا مرکز سکردو ہے۔ سکردو شہر سلسلہ قراقرم اور کوہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک خوبصورت شہر ہے۔ سکردو شہر سے ہو کر ہی دنیا کے بلند قدرتی پارک دیوسائی اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو تک جایا جا سکتا ہے۔ اسکردوگلگت بلتستان میں سیاحت، ٹریکنگ اور مہم کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس خطے کا پہاڑی علاقہ، جس میں دنیا کی 14 آٹھ ہزار چوٹیوں میں سے چار شامل ہیں، دنیا بھر کے سیاحوں، ٹریکروں اور کوہ پیماؤں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ سکردو برف سے ڈھکی 8,000 میٹر (26,000 فٹ) چوٹیوں کے لیے اہم گیٹ وے ہیں جن میں K2، گاشربرمز، براڈ پیک، اور ٹرانگو ٹاورز، اور بالتورو کے بڑے گلیشیئرز شامل ہیں۔  سکردو کی خوبصورتی کی ایک وجہ دریائے سندھ بھی ہے۔

Islamabad To Skardu/ اسلام آباد سے سکردو پہنچنے کا راستہ

اسلام آباد سے سکردو پہنچنے کا سب سے تیز ترین ذریعہ ہوائی جہاز ہے۔ اسلام آباد سے روزانہ سکردو فلائیٹ جات ہےاسلام آباد سے سکردوتک کا فاصلہ تقریبا 750 کلومیٹر ہے۔ بصورت یہ کہ موسم خراب نہ ہو۔ اور اسلام آباد سے 45 منٹ کے سفر کے بعد آپ سکردو  پہنچ سکتے ہیں۔سکردو کا ہوائی سفر بہت ہی دلکش ہے۔ کوہ ہمالیہ اور قراقرم کی برف پوش چوٹیاں جن کی بلندی 20 ہزار فٹ سے بھی زیادہ ہے اس سفر کو اور بھی حسین بنا دیتی ہیں۔ سکردو ائیرپورٹ ویسے تو چھوٹا ہے لیکن برف پوش پہاڑوں کے درمیان ریتلے صحراء پر بنا  یہ ائیر پورٹ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔

دوسرا ذریعہ سڑک کے ذریعہ سفر ہے۔  بذریعہ روڈ آسان تو یہ ہے کہ مانسہرہ، ناران، بابوسر ٹاپ  اور چلاس، جگلوٹ سے پھر سکردو روڈ پر چڑھ جاتے ہیں۔   لیکن یہ روٹ صرف جون کے آخر سے ستمبر سے شروع تک ہی کھلا ہوتا ہے۔ اسلام آباد سے یہ راستہ تقریبا 18 سے 20 گھنٹے کا ہے۔

بذیعہ روڈ ایک راستہ یہ ہے کہ مانسہرہ سے شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے حسن ابدال۔ ایبٹ آباد۔ مانسہرہ۔ تھا کوٹ۔ بشام۔ داسو۔ چلاس۔ جگلوٹ  سے بائیں جانب سکردوں کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ یہ راستہ تقریبا 24سے 26 گھنٹے کا ہے۔  یہ تھکا دینے والا سفر ہے تو خوبصورت لیکن اس پر ہمیشہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے اور بعض دفعہ چند گھنٹوں سے چند دنوں تک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے یہ راستہ بند رہتا ہے۔

Skardu City/ سکردو شہر اور رہائش

سکردو شہر سرد صحراء کے گرد پہاڑوں کے درمیان آباد خوبصورت شہر ہے۔ چونکہ ہر سال لاکھوں سیاح خاص طور پر غیر ملکی سیاح سکردو کا رخ کرتے ہیں اس وجہ سے سکردو میں رہائش کا اچھا انتظام میسر ہے۔ سکردو شہر میں درجنوں ہوٹل اور گیسٹ ہائسز موجود ہیں ۔ غیر ملکی سیاحوں کی کثرت سے آمد کی وجہ سےان کا میعار بھی نسبتا بہتر ہے۔ سکردو میں ہوٹل 3000 سے 50000 ہزار کے درمیان مل جاتے ہیں۔  

Skardu weather / سکردو کا موسم

سکردو کیونکہ شمال میں واقع ہے اور بلند و بالا برف پوش پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے اس لئے یہاں موسم عموما ٹھنڈا ہی ہوتا ہے۔ دوسرے سکردو شہر کے صحراء میں آباد شہر ہے اس وجہ سے گرمیوں میں دن کے وقت اگرچہ موسم گرم ہو جاتا ہے لیکن رات ٹھنڈی ہوتی ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری ہوتا ہے اور رات کو یہ درجہ حرارت 10 ڈگری تک گر جاتا ہے۔  سردیاں یہاں نہایت سخت ہوتی ہیں۔ درجہ حرارت منفی 25 ڈگری تک چلا جاتا ہے۔

سکردو شہر صحراء کے پاس ہونے کی وجہ سے یہاں عموما ریتلی ہوائیں اور جھکڑ بھی چلتے رہتے ہیں۔

سیاحت کے لئے بہترین موسم تو مئی تا ستمبر ہے البتہ یہاں پر خزاں اور بہار کا موسم بھی پاکستان کے باقی شمالی علاقہ جات کی نسبت مختلف ہوتا ہے۔ بہت سے سیاح یہاں پر خاص طور پر خزاں اور بہار کے موسم سے بھی لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔

Tourist spots/سکردوکے سیاحتی مقامات

سکردو کے اردگرد بہت سے سیاحتی مقامات ہیں۔ یہ سیاحتی مقامات ٹھنڈی جھیلوں، صحراء،آبشاروں ،  سرسبز میدانوں سے لے کر آٹھ ہزار فٹ سے بھی بلند سارا سال برف میں ڈھکی رہنے والی چوٹیوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ہر مقام دوسرے سے مختلف ہے۔ اگر آپ سکردوں کا رخ کریں تو اس علاقہ کے مشہور مقامات کی سیر کے لئے بھی 5 سے 7 دن درکار ہوتے ہیں۔

shangrila /شنگریلا

شنگریلا جھیل یا لوئر کچورا جھیل سکردو شہر سے صرف بیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ پہاڑوں کے بیچ گھری قدرتی جھیل اور یہاں بنا ٹوریسٹ ریزارٹ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔  نیلگوں  جھیل کے گرد بنا ریزارٹ یا ہوٹل بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس جھیل کے نظارہ سے لطف اندوز ہونے کے لئے آپ کو ریزارٹ میں جانے کا ٹکٹ درکار ہوتا ہے۔ یہاں ریسٹورانٹ اور رہائش کے لئے کمرے بھی ہیں لیکن ان کی قیمت کافی زیادہ ہے۔ ایک رات یہاں رہائش کی قیمت 30 سے 50 ہزار کے درمیان ہے۔

Skardu fort/ کھرفوچو یا سکردو قلعہ

اسکردو قلعہ یا کھرفوچو قلعہ سکردو شہر سے 15 میٹر (49 فٹ) اوپر کھدرونگ یا منڈوق کھر (“ملکہ مینڈوق کا قلعہ”) پہاڑی کے مشرقی حصہ  پر واقع ہے۔ یہ قلعہ 8ویں صدی عیسوی کا ہے اور اس میں ایک پرانی مسجد ہے جو غالباً 16ویں صدی عیسوی میں اسلام کی آمد سے متعلق ہے۔ یہ قلعہ سکردو شہر، وادی اسکردو اور دریائے سندھ کا خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔

Upper kachura/اپر کچورہ

اپر کچورہ جھیل جیسے مقامی زبان میں فروق ژھو ک کہتے  ہیں سکردو سے 22 کلومیٹر دور ہے۔ یہاں شہر سے ایک گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔ اس جھیل پر ٹراؤٹ فش اور سپیڈ بوٹنگ کے لئے بھی مشہور ہے۔

Cold Desert/سرد صحراء یا کٹپنا صحراء

سکردو سے صرف 15 کلومیٹر اور 30 منٹ کے فاصلے پر ٹھنڈا صحراء Cold Dessert  یعنی کٹپنا صحراء واقع ہے۔ دنیا کے بلند ترین صحراوں میں شمار ہوتا یہ علاقہ سردی و گرمی میں اپنی الگ حیثیت رکھتا ہے۔ سردیوں میں یہ صحراء برف سے ڈھکا ہوتا ہے اور گرمیوں میں پہاڑوں کے دامن میں خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔ کتپنا چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہے اور اس کے دامن میں کتپنا جھیل اور دو طرف سبزہ ہے۔ یہ سطح سمندر سے 2,226 میٹر (7,303 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ گرمیوں میں یہاں جیپ ریلی بھی منعقد ہوتی ہے۔

Sadpara Lake /سدپارہ جھیل

سکردو سے 25 کلومیٹر دور محض 45 منٹ کی مسافت پر سدپارہ جھیل یا اب سدپارہ ڈیم واقع ہے۔ نیلے اور تازہ شفاف پانی کی یہ جھیل دو طرف سے پہاڑوں میں گھری ہے۔ اس جھیل میں پانی مختلف سمت سے آ رہا ہے لیکن دیوسائی کی جانب سے آنے والا پانی زیادہ ہے۔ سدپارہ جھیل کا اصل نام سَتپَرَہ سر ہے جس کا معنی ہے سات ندیوں کا جھیل ہے۔ آپ سکردو سےاس جھیل تک کسی کی بھی وقت اور کسی بھی موسم میں پہنچ سکتے ہیں۔ اس جھیل کی خاص بات اس کے وسط میں واقع ایک جزیرہ ہے۔ ی جزیرہ اس جھیل کو باقی جھیلوں سے ممتاز اور خوبصورت بناتا ہے۔

Deo Sai/ دیو سائی

سطح سمندر سے 4,114 میٹر (13,497 فٹ) بلندی پر دنیا کے دوسرے سب سے اونچے مقام دیوسائی کے میدانوں تک کا سفر یا تو اسکردو سے شروع ہوتا ہے یا ختم ہوتا ہے۔ مقامی بلتی زبان میں دیوسائی کو بیارسا کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ‘گرمیوں کی جگہ’۔ تقریباً 3,000 مربع کلومیٹر (1,158 مربع میل) کے رقبے کے ساتھ، میدانی علاقے لداخ تک پھیلے ہوئے ہیں اور برفانی چیتے، آئی بیکس یعنی مارخور ، تبتی نیلے ریچھ، مارموٹ  اور جنگلی گھوڑوں  کی سرزمین ہونے کے علاوہ یہ علاوہ ندی نالوں، مختلف رنگوں کے پھولوں، سائیبرین پرندوں کا مسکن ہونے اور جھیل کی وجہ سے  پاکستان کا خوبصورت ترین علاقہ ہے۔

یوسائی پہنچنے کے دو راستے ہیں ایک راستہ اسکردو سے ہے اور دوسرا استور سے۔ اسکردو سے دیوسائی 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور جیپ کے ذریعے دو گھنٹے میں سد پارہ جھیل اور سد پارہ گاؤں کے راستے دیوسائی پہنچا جا سکتا ہے۔

دیوسائی تک رسائی صرف اپریل یا ستمبر تک ہی ممکن ہے۔ دیوسائی کے میدان کے آخر میں ایک خوبصورت قدرتی جھیل بھی واقع ہے۔12600 فٹ کی بلندی پر وقع شوسر جھیل سکردوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔

 یہاں پر درجہ حرارت گرمیوں میں بھی 15 سے 20 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے۔ اور رات کو درجہ حرارت صفر ڈگری تک بھی گر جاتا ہے۔ اگر آپ ایڈونچر کے شوقین ہیں تو رات گزارنے کے لئے یہاں کیمپ کرائے پر مل جاتے ہیں۔ دنیا کے اس چھت سے رات آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ کا نظارہ ایک ناقابل یقین نظارہ ہے۔

khaplo/خپلو

وادی خپلو گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کا صدر مقام ہے۔ پورے ضلع گانچھے کو بلتستان کے دیگر علاقوں کے لوگ خپلو بھی کہتے ہیں۔ یہ  سکردو سے 105 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ہے۔ ۔ یہیں سے سیاچین کو راستے جاہیں نیز اسی علاقے میں مشابرم جسی بلند پہاڑیاں واقع ہیں۔ اس وادی کے بیچ و بیچ دریائے شیوک بہتا ہے۔خپلو کے ٹو اور دوسری بلند چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیماوں کے لئے ایک اہم سٹاپ ہے۔ سکردوں سے خپلو جاتے ہوئے آپ مشابرم، گشابرم جیسے پہاڑوں کا دور سے نظارہ کر سکتے ہیں۔

یہاں پر ایک پرانا قلعہ بھی ہے۔ جس کو اب فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس قلعہ اور ہوٹل بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

Shagr Fort/شگر فورٹ

شگر وسیع اور خوبصورت وادی ہے۔ سکردوسے 45 کلومیٹر اور ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر شگر شہر اور شگر کا قلعہ واقع ہے۔  شگر خاص دریائے باشہ اور دریائے برالدو کا سنگم ہے۔ شگر خاص سے برالدو نالے کی جانب جانے والی سڑک برالدو نالے کے آخری گاوں تستے پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے۔جس کے اختتام پر دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی (K.2) موجود ہے۔ کے۔ ٹو کے علاوہ گشہ بروم1، گشہ بروم 2، ٹرانگ اینڈ ٹاورجیسی چوٹیاں بھی برالدو ایریا میں دنیا بھر سے کوہ پیماوں اور سیاحوں کو کھینچ لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

یہاں خوبانی اور خصوصا باشہ کی دیسی گھی بہت مشہور ہے۔  شگر میں مختلف قسم کے معدنیات کی فراوانی ہے۔ یہاں سے نکالے گئے سنگ مرمر سے دنیا بھرمیں مشہور ہے۔ اس وادی کے خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر ،بلندپھاڑی چوٹیاں ،لہلہا تے کھیت ،ٹھنڈی چشمے اور آبشاریں ،ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنے اندر ایک منفرد کشش رکھتی ہے ۔

شگر کا پرانا قلعہ بھی سیاحوں کی کشش کا باعث ہے۔ اس قلعہ میں ایک فائیوسٹار ہوٹل قائم ہے۔ یہ قلعہ تقریبا 400 سال پرانا ہے۔ اس قلعہ میں سیاحوں کے لئے رہائش کا انتظام بھی ہے۔ لیکن یہ نسبتا مہنگی ہے۔ اس کے علاوہ شگر شہر میں بھی کئی چھوٹے بڑے ہوٹل موجود ہیں۔

Minthoka Lake/منٹھوکا آبشار

وادی کھرمنگ کی منٹھوکا آبشار پاکستان کی مشہور ترین آبشاروں میں سے ایک ہے۔ یوں تو پاکستان میں آبشار شاید سینکڑوں کی تعداد میں ہونگے لیکن یہ آبشار کافی بلندی سے گرتا ہے اور اس کا شمار پاکستان کا سب سے بڑے انچائی سے گرنے والا آبشار ہے اس کی چوڑائی میں گھیراؤ کم از کم تیس فٹ ہے اور تقریبا 180  اونچائی سے گرتا ہے۔ سکردو سے تقریباً 80 کلومیٹر دور وادی کھرمنگ کی اس آبشار تک اڑھائی سے تین گھنٹے کے سفر کے بعد پہنچا جا سکتاہے۔ اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کا پانی سردیوں کے موسم میں نیچے گرتے گرتے جم جاتا ہے اور نہایت حسین منظر پیش کرتا ہے۔  رات گزارنے کے لئے یہاں پر ٹری ہاوسز، ہٹ اور کیمپ بھی دستیاب ہیں۔

Skardu foods/سکردو کے کھانے

سکردوں جائیں تو آپ یہاں کے روایتی کھانوں سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ جس میں ممتو، بلتستانی ازوک، قچاہیے، مسکورو پڑاپو، چھو بلے پڑاپو ، سنیار فیٹی پڑاپو،  فیاخ تد وغیرہ مشہور ہیں۔ 

مزید پڑھیں

Close Search Window
Close